Iztirab

Iztirab

الزام تھا دیے پہ نہ تقصیر رات کی

الزام تھا دیے پہ نہ تقصیر رات کی 
ہم نے تو بس ہوا کے تعلق سے بات کی 
ہر صبح جب کہ صبح قیامت کی طرح آئے 
ایسے میں کون ہوگا جو سوچے ثبات کی 
تکلیف تو ہوئی مگر اے ناخن ملال 
کھلنے لگی گرہ بھی کوئی اپنی ذات کی 
زنجیر ہے جزیرہ ہے یا شاخ بے ثمر 
اب کون سی لکیر سلامت ہے ہات کی 
مرنے اگر نہ پائی تو زندہ بھی کب رہی 
تنہا کٹی وہ عمر جو تھی تیرے ساتھ کی 
پھر بھی نہ میرا قافلہ لٹنے سے بچ سکا 
.میں نے خبر تو رکھی تھی ایک ایک گھات کی

پروین شاکر

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *