Iztirab

Iztirab

ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا

ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا 
آنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھا 
کس سے پوچھوں ترے آقا کا پتہ اے رہوار 
یہ علم وہ ہے نہ اب تک کسی شانے سے اٹھا 
حلقۂ خواب کو ہی گرد گلو کس ڈالا 
دست قاتل کا بھی احساں نہ دوانے سے اٹھا 
پھر کوئی عکس شعاعوں سے نہ بننے پایا 
کیسا مہتاب مرے آئنہ خانے سے اٹھا 
کیا لکھا تھا سر محضر جسے پہچانتے ہی 
.پاس بیٹھا ہوا ہر دوست بہانے سے اٹھا

پروین شاکر

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *