Iztirab

Iztirab

تھک گیا ہے دل وحشی مرا فریاد سے بھی

تھک گیا ہے دل وحشی مرا فریاد سے بھی 
جی بہلتا نہیں اے دوست تری یاد سے بھی
 
اے ہوا کیا ہے جو اب نظم چمن اور ہوا 
صید سے بھی ہیں مراسم ترے صیاد سے بھی 
کیوں سرکتی ہوئی لگتی ہے زمیں یاں ہر دم 
کبھی پوچھیں تو سبب شہر کی بنیاد سے بھی 
برق تھی یا کہ شرار دل آشفتہ تھا 
کوئی پوچھے تو مرے آشیاں برباد سے بھی 
بڑھتی جاتی ہے کشش وعدہ گہ ہستی کی 
.اور کوئی کھینچ رہا ہے عدم آباد سے بھی

پروین شاکر

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *