Iztirab

Iztirab

جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہے

جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہے 
چاند کے ہم راہ ہم ہر شب سفر کرتے رہے 
راستوں کا علم تھا ہم کو نہ سمتوں کی خبر 
شہر نامعلوم کی چاہت مگر کرتے رہے 
ہم نے خود سے بھی چھپایا اور سارے شہر کو 
تیرے جانے کی خبر دیوار و در کرتے رہے 
وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا اس شام بھی 
انتظار اس کا مگر کچھ سوچ کر کرتے رہے 
آج آیا ہے ہمیں بھی ان اڑانوں کا خیال 
.جن کو تیرے زعم میں بے بال و پر کرتے رہے

پروین شاکر

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *