Iztirab

Iztirab

خمار شب میں اسے میں سلام کر بیٹھا

خمار شب میں اسے میں سلام کر بیٹھا 
جو کام کرنا تھا ، مُجھ کو وہ کام کر بیٹھا 
قبائے زرد پہن کر وُہ بزم میں آیا 
گل حنا کو ہتھیلی میں تھام کر بیٹھا 
چھپا گیا تھا محبت کا راز میں تُو مگر 
وہ بھول پن میں سخن دل کا عام کر بیٹھا 
جو سو کہ اٹھا تُو رستہ اجاڑ لگتا تھا 
پہنچنا تھا مُجھے منزل پہ شام کر بیٹھا 
تھکن سفَر کی بدن شل سا کر گئی ہے منیرؔ 
.برا کیا جُو سفر میں قیام کر بیٹھا 

منیر نیازی 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *