Iztirab

Iztirab

خوشی کی بات ہے یا دکھ کا منظر دیکھ سکتی ہوں

خوشی کی بات ہے یا دکھ کا منظر دیکھ سکتی ہوں 
تری آواز کا چہرہ میں چھو کر دیکھ سکتی ہوں 
ابھی تیرے لبوں پہ ذکر فصل گل نہیں آیا 
مگر اک پھول کھلتے اپنے اندر دیکھ سکتی ہوں 
مجھے تیری محبت نے عجب اک روشنی بخشی 
میں اس دنیا کو اب پہلے سے بہتر دیکھ سکتی ہوں 
کنارہ ڈھونڈنے کی چاہ تک مجھ میں نہیں ہوگی 
میں اپنے گھر میں اک ایسا سمندر دیکھ سکتی ہوں 
وصال و ہجر اب یکساں ہیں وہ منزل ہے چاہت میں 
میں آنکھیں بند کر کے تجھ کو اکثر دیکھ سکتی ہوں 
ابھی تیرے سوا دنیا بھی ہے موجود اس دل میں 
.میں خود کو کس طرح تیرے برابر دیکھ سکتی ہوں

پروین شاکر

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *