Iztirab

Iztirab

دل کا کیا ہے وہ تو چاہے گا مسلسل ملنا

دل کا کیا ہے وہ تو چاہے گا مسلسل ملنا 
وہ ستم گر بھی مگر سوچے کسی پل ملنا 
واں نہیں وقت تو ہم بھی ہیں عدیم الفرصت 
اس سے کیا ملیے جو ہر روز کہے کل ملنا 
عشق کی رہ کے مسافر کا مقدر معلوم 
شہر کی سوچ میں ہو اور اسے جنگل ملنا 
اس کا ملنا ہے عجب طرح کا ملنا جیسے 
دشت امید میں اندیشے کا بادل ملنا 
دامن شب کو اگر چاک بھی کر لیں تو کہاں 
.نور میں ڈوبا ہوا صبح کا آنچل ملنا

پروین شاکر

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *