Iztirab

Iztirab

رنگ خوش بو میں اگر حل ہو جائے

رنگ خوش بو میں اگر حل ہو جائے 
وصل کا خواب مکمل ہو جائے 
چاند کا چوما ہوا سرخ گلاب 
تیتری دیکھے تو پاگل ہو جائے 
میں اندھیروں کو اجالوں ایسے 
تیرگی آنکھ کا کاجل ہو جائے 
دوش پر بارشیں لے کے گھومیں 
میں ہوا اور وہ بادل ہو جائے 
نرم سبزے پہ ذرا جھک کے چلے 
شبنمی رات کا آنچل ہو جائے 
عمر بھر تھامے رہے خوش بو کو 
پھول کا ہاتھ مگر شل ہو جائے 
چڑیا پتوں میں سمٹ کر سوئے 
.پیڑ یوں پھیلے کہ جنگل ہو جائے

پروین شاکر

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *