Iztirab

Iztirab

رکنے کا سمے گزر گیا ہے

رکنے کا سمے گزر گیا ہے 
جانا ترا اب ٹھہر گیا ہے 
رخصت کی گھڑی کھڑی ہے سر پر 
دل کوئی دو نیم کر گیا ہے 
ماتم کی فضا ہے شہر دل میں 
مجھ میں کوئی شخص مر گیا ہے 
بجھنے کو ہے پھر سے چشم نرگس 
پھر خواب صبا بکھر گیا ہے 
بس ایک نگاہ کی تھی اس نے 
.سارا چہرہ نکھر گیا ہے

پروین شاکر

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *