Iztirab

Iztirab

رکی ہوئی ہے ابھی تک بہار آنکھوں میں

رکی ہوئی ہے ابھی تک بہار آنکھوں میں 
شب وصال کا جیسے خمار آنکھوں میں 
مٹا سکے گی اسے گرد ماہ و سال کہاں 
کھنچی ہوئی ہے جو تصویر یار آنکھوں میں 
بس ایک شب کی مسافت تھی اور اب تک ہے 
مہ و نجوم کا سارا غبار آنکھوں میں 
ہزار صاحب رخش صبا مزاج آئے 
بسا ہوا ہے وہی شہ سوار آنکھوں میں
وہ ایک تھا پہ کیا اس کو جب تہہ تلوار 
.تو بٹ گیا وہی چہرہ ہزار آنکھوں میں

پروین شاکر

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *