Iztirab

Iztirab

شب ڈھلی چاند بھی نکلے تو سہی

شب ڈھلی چاند بھی نکلے تو سہی
درد جو دل میں ہے چمکے تو سہی
ہم وہیں پر بسا لیں خود کو
وہ کبھی راہ میں روکے تو سہی
مجھے تنہائیوں کا خوف کیوں ہے
وہ مرے پیار کو سمجھے تو سہی
وہ قیامت ہو ،ستارہ ہو کہ دل
کچھ نہ کچھ ہجر میں ٹوٹے تو سہی
سب سے ہٹ کر منانا ہے اسے
ہم سے اک بار وہ روٹھے تو سہی
اُس کی نفرت بھی محبت ہو گی
میرے بارے میں وہ سوچے تو سہی
دل اسی وقت سنبھل جائے گا
دل کا احوال وہ پوچھے تو سہی
اس کے قدموں میں بچھا دوں آنکھیں
میری بستی سے وہ گزرے تو سہی
میرا جسم آئینہ خانہ ٹھہرے
میری جانب کبھی دیکھے تو سہی
اس کے سب جھوٹ بھی سچ ہیں محسن
.شرط اتنی ہے کہ ، بولے تو سہی

محسن نقوی

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *