Iztirab

Iztirab

مرحلے شوق کے دشوار ہوا کرتے ہیں

مرحلے شوق کے دشوار ہوا کرتے ہیں
سائے بھی راہ کی دیوار ہوا کرتے ہیں
وہ جو سچ بولتے رہنے کی قسم کھاتے ہیں
وہ عدالت میں گنہگار ہوا کرتے ہیں
صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو
کچھ سوالی بڑے خود دار ہوا کرتے ہیں
وہ جو پتھر یونہی رستے میں پڑے رہتے ہیں
اُن کے سینے میں بھی شہکار ہوا کرتے ہیں
صبح کی پہلی کرن جن کو رلا دیتی ہے
وہ ستاروں کے عزا دار ہوا کرتے ہیں
جن کی آنکھوں میں سدا پیاس کے صحرا چمکیں
در حقیقت وہی فنکار ہوا کرتے ہیں
شرم آتی ہے کہ دشمن کسے سمجھیں محسن
.دشمنی کے بھی تو معیار ہوا کرتے ہیں

محسن نقوی

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *