Iztirab

Iztirab

وفا میں اب یہ ہنر اختیار کرنا ہے

وفا میں اب یہ ہنر اختیار کر نا ہے
وہ سچ کہے نہ کہے ، اعتبار کرنا ہے
یہ تجھ کو جاگتے رہنے کا شوق کب سے ہوا
مجھے تو خیر ترا انتظار کرنا ہے
ہوا کی زد میں جلانے ہیں آنسووں کے چراغ
کبھی یہ جشن سر راہ گزار کرنا ہے
مثال شاخ برہنہ ، خزاں کی رت میں کبھی
خود اپنے جسم کو بے برگ و بار کرنا ہے
تیرے فراق میں دن کس طرح کٹیں اپنے
کہ شغل شب تو ستارے شمار کرنا ہے
کبھی تو دل میں چھپے زخم بھی نمایاں ہوں
قبا سمجھ کے بدن تار تار کرنا ہے
خدا خبر یہ کوئی ضد کہ شوق ہے محسن
.خود اپنی جان کے دشمن سے پیار کرنا ہے​

محسن نقوی

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *