Iztirab

Iztirab

چاند رات

گئے برس کی عید کا دن کیا اچھا تھا 
چاند کو دیکھ کے اس کا چہرہ دیکھا تھا 
فضا میں کیٹس کے لہجے کی نرماہٹ تھی 
موسم اپنے رنگ میں فیض کا مصرعہ تھا 
دعا کے بے آواز الوہی لمحوں میں 
وہ لمحہ بھی کتنا دل کش لمحہ تھا 
ہاتھ اٹھا کر جب آنکھوں ہی آنکھوں میں 
اس نے مجھ کو اپنے رب سے مانگا تھا 
پھر میرے چہرے کو ہاتھوں میں لے کر 
کتنے پیار سے میرا ماتھا چوما تھا
 
ہوا ! کچھ آج کی شب کا بھی احوال سنا 
کیا وہ اپنی چھت پر آج اکیلا تھا؟ 
یا کوئی میرے جیسی ساتھ تھی اور اس نے 
چاند کو دیکھ کے اس کا چہرہ دیکھا تھا ؟

پروین شاکر

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *