Iztirab

Iztirab

کھلی آنکھوں میں سپنا جھانکتا ہے

کھلی آنکھوں میں سپنا جھانکتا ہے 
وہ سویا ہے کہ کچھ کچھ جاگتا ہے 
تری چاہت کے بھیگے جنگلوں میں 
مرا تن مور بن کر ناچتا ہے 
مجھے ہر کیفیت میں کیوں نہ سمجھے 
وہ میرے سب حوالے جانتا ہے
میں اس کی دسترس میں ہوں مگر وہ 
مجھے میری رضا سے مانگتا ہے 
کسی کے دھیان میں ڈوبا ہوا دل 
بہانے سے مجھے بھی ٹالتا ہے 
سڑک کو چھوڑ کر چلنا پڑے گا 
.کہ میرے گھر کا کچا راستہ ہے

پروین شاکر

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *