Iztirab

Iztirab

کیا کرے میری مسیحائی بھی کرنے والا

کیا کرے میری مسیحائی بھی کرنے والا 
زخم ہی یہ مجھے لگتا نہیں بھرنے والا 
زندگی سے کسی سمجھوتے کے با وصف اب تک 
یاد آتا ہے کوئی مارنے مرنے والا 
اس کو بھی ہم ترے کوچے میں گزار آئے ہیں 
زندگی میں وہ جو لمحہ تھا سنورنے والا 
اس کا انداز سخن سب سے جدا تھا شاید 
بات لگتی ہوئی لہجہ وہ مکرنے والا 
شام ہونے کو ہے اور آنکھ میں اک خواب نہیں 
کوئی اس گھر میں نہیں روشنی کرنے والا 
دسترس میں ہیں عناصر کے ارادے کس کے 
سو بکھر کے ہی رہا کوئی بکھرنے والا 
اسی امید پہ ہر شام بجھائے ہیں چراغ 
.ایک تارا ہے سر بام ابھرنے والا

پروین شاکر

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *