Iztirab

Iztirab

گئے جنم کی صدا

وہ ایک لڑکی 
کہ جس سے شاید میں ایک پل بھی نہیں ملی ہوں 
میں اس کے چہرے کو جانتی ہوں 
کہ اس کا چہرہ 
تمہاری نظموں تمہاری گیتوں کی چلمنوں سے ابھر رہا ہے 
یقین جانو 
مجھے یہ چہرہ تمہارے اپنے وجود سے بھی عزیز تر ہے 
کہ اس کی آنکھوں میں 
چاہتوں کے وہی سمندر چھپے ہیں 
جو میری اپنی آنکھوں میں موجزن ہیں 
وہ تم کو اک دیوتا بنا کر مری طرح پوجتی رہی ہے 
اس ایک لڑکی کا جسم 
خود میرا ہی بدن ہے 
وہ ایک لڑکی 
.جو میرے اپنے گئے جنم کی مدھر صدا ہے

پروین شاکر

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *