Iztirab

Iztirab

ہم تو یوں خوش تھے کہ اک تار گریبان میں ہے

ہم تو یوں خوش تھے کہ اک تار گریبان میں ہے
کیا خبر تھی کہ بہار اس کے بھی ارمان میں ہے

ایک ضرب اور بھی اے زندگیٔ تیشہ بدست
سانس لینے کی سکت اب بھی مری جان میں ہے

میں تجھے کھو کے بھی زندہ ہوں یہ دیکھا تو نے
کس قدر حوصلہ ہارے ہوئے انسان میں ہے

فاصلے قرب کے شعلوں کو ہوا دیتے ہیں
میں ترے شہر سے دور اور تو مرے دھیان میں ہے

سر دیوار فروزاں ہے ابھی ایک چراغ
اے نسیم سحری کچھ ترے امکان میں ہے

دل دھڑکنے کی صدا آتی ہے گاہے گاہے
جیسے اب بھی تری آواز مرے کان میں ہے

خلقت شہر کے ہر ظلم کے با وصف فرازؔ
ہائے وہ ہاتھ کہ اپنے ہی گریبان میں ہے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *