Iztirab

Iztirab

سو چاند بھی چمکیں گے تو کیا بات بنے گی

سو چاند بھی چمکیں گے تو کیا بات بنے گی 
تم آئے تو اس رات کی اوقات بنے گی 
ان سے یہی کہہ آئیں کہ اب ہم نہ ملیں گے 
آخر کوئی تقریب ملاقات بنے گی 
اے ناوک غم دل میں ہے اک بوند لہو کی 
کچھ اور تو کیا ہم سے مدارات بنے گی 
یہ ہم سے نہ ہوگا کہ کسی ایک کو چاہیں 
اے عشق ہماری نہ ترے ساتھ بنے گی 
یہ کیا ہے کہ بڑھتے چلو بڑھتے چلو آگے 
جب بیٹھ کے سوچیں گے تو کچھ بات بنے گی

جاں نثاراختر

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *